4 جنوری 2019 - 14:54
مقدسات کی توہین اہل کشمیر کی دینی غیرت کو للکارنے کے مترادف: آغا حسن

آغا حسن کہا کہ مرکزی جامعہ مسجد سرینگر کو کشمیر کے اولین تبلیغی مرکز ہونے کے ساتھ ساتھ ریاستی مسلمانوں کی وحدت و اخوت کا تاریخی پلیٹ فارم ہونے کا شرف حاصل ہے یہ کشمیر کا ایسا واحد دینی مرکز ہے جہاں سے کبھی بھی کوئی اختلافی آواز نہ اٹھی۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ مرکزی جامع مسجد سرینگر میں مسجد و منبر کے تقدس کی پامالی کے حالیہ سانح اور سوشل میڈیا پر مسلکی منافرت کے شر انگیز پروپگنڈے اور وادی میں تکفیری عناصر کی مذموم حرکتوں کے خلاف انجمن شرعی شیعیان جموں و کشمیر کے اہتمام سے بڈگام میں تنظیم کے سربراہ اور سینئر حریت رہنما حجتہ الاسلام والمسلمین آغا سید حسن الموسوی الصفوی کی قیادت میں احتجاجی جلوس برآمد کیا گیا متحدہ مزاحمتی قیادت کے مشتہر شدہ پروگرام کے ساتھ اظہار یکجہتی کے طور پر برآمد کئے گئے احتجاجی جلوس میں ہزاروں کی تعداد میں فرزندان توحید نے شرکت کی شرکاے جلوس نے اپنے ہاتھوں میں پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر مقدسات کی توہین کے ملوثین کے خلاف راست اقدامات کے نعرے درج تھے قبل ازیم مرکزی امام باڑہ بڈگام میں بھاری جمعہ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے آغا حسن نے مرکزی جامع مسجد سرینگر کا تاریخی پس منظر بیان کیا انھوں نے کہا کہ مرکزی جامعہ مسجد سرینگر کو کشمیر کے اولین تبلیغی مرکز ہونے کے ساتھ ساتھ ریاستی مسلمانوں کی وحدت و اخوت کا تاریخی پلیٹ فارم ہونے کا شرف حاصل ہے یہ کشمیر کا ایسا واحد دینی مرکز ہے جہاں سے کبھی بھی کوئی اختلافی آواز نہ اٹھی بلکہ اختلافات کو ختم کرنے کے نصب العین کی آبیاری ہوتی رہی اس ادارے کی اعتباریت اور اہمیت ہمیشہ اہل کشمیر کے بدخواہوں کو کھٹکتی رہی سوشل میڈیا پر مسلکی منافرت کی آگ بھڑکانے کی کوششوں اور مقدسات کی توہین کے حالیہ سانحات کو کشمیریوں کی جدوجہد اور حالات کا رخ کسی اور جانب موڑنے کی منصوبہ بند سازش کی ایک کڑی قرار دیتے ہوئے آغا حسن نے عزم ظاہر کیا کہ کشمیری قوم متحد ہوکر ایسی گھناونی منصوبہ بندیوں کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے ۔اس سلسلے میں وادی کی تمام دینی اور مزاحمتی جماعتیں متحد و متفق ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ مقدسات کی توہین ملت اسلامیہ جموں و کشمیر کے دینی غیرت کو للکارنے کی ایک مزموم کوشش ہے جسکا جواب اہل کشمیر پورے ایمانی جذبے کے ساتھ دینے کی صلاحت رکھتے ہے۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲